حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعیت علمائے پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے رکن الاسلام جامعہ مجددیہ میں منعقدہ "محفلِ قرأتِ قرآن کریم" سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید صدر ابراہیم رئیسی کا شجاعانہ کردار تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ شہید رئیسی نے نہ صرف ایران کی قومی خود مختاری اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے بے مثال خدمات سر انجام دیں، بلکہ عالمِ اسلام بالخصوص مظلوم فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا بھرپور دفاع کیا۔

یہ پُرشکوه تقریب صدرِ جمہوریہ اسلامی ایران شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقائے کار کی دوسری برسی، میناب اسکول کے مظلوم بچوں اور شہدائے اسلام بالخصوص شہدائے غزه و فلسطین کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔

اس موقع ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ایران کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان دونوں برادر اسلامی ملکوں کے تعلقات دین، ثقافت، تاریخ اور صدیوں پرانی اسلامی اخوت پر استوار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے اپنے اتحاد، استقامت اور لازوال قربانیوں سے عالمی استکبار کی تمام سازشوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے شہید صدر ابراہیم رئیسی کا شجاعانہ کردار تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ شہید رئیسی نے نہ صرف ایران کی قومی خود مختاری اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے بے مثال خدمات سرانجام دیں، بلکہ عالمِ اسلام بالخصوص مظلوم فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا بھرپور دفاع کیا۔

انہوں نے ہمیشہ فلسطینیوں کی آزادی کی تحریک کی حمایت کی اور استکباری قوتوں کے سامنے حق و صداقت کی آواز بلند کی۔
ڈاکٹر زبیر نے مزید کہا کہ اہلستانِ فلسطین دہائیوں سے ظلم و بربریت کا شکار ہیں، لیکن ان کے حوصلے اور جذبے آج بھی بلند ہیں۔ اب یہ امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرے اور ان کے جائز حقوق کی حمایت جاری رکھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور ایران کی دوستی محض ہمسائیگی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایمان، ثقافت اور باہمی اعتماد کا ایک لازوال رشتہ ہے۔ دونوں ملکوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے مفادات، سلامتی اور استحکام کے لیے تعاون کیا ہے۔ پاک-ایران گیس پائپ لائن، تجارتی تعلقات، سرحدی تعاون اور علاقائی امن کے معاہدے اس پائیدار دوستی کی روشن مثالیں ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مستقبل میں اتحادِ امت اور علاقائی ترقی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں گے۔
آخر میں انہوں نے شہید صدر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی منش مسلم رہنماؤں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
ڈائریکٹر خانۂ فرہنگِ ایران ڈاکٹر سعید ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ایرانی ملت نے جس اتحاد، یکجہتی اور اعلیٰ قومی شعور کا مظاہرہ کیا، اس نے دشمنوں کی شوم سازشوں کو ناکام بنا کر انہیں عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام ہر مشکل گھڑی میں اپنے رہبروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور اسی استقامت نے دشمن طاقتوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔

ڈاکٹر سعید ہاشمی نے زور دیا کہ ایران ہمیشہ مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور عالمی سطح پر امن، بھائی چارے اور انصاف کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا۔
انہوں نے امتِ مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر باہمی اتحاد کو مضبوط کریں تاکہ استکباری قوتوں کے نقشے ملیا میٹ کیے جا سکیں۔

اس نورانی محفل میں قاری نوید چشتی، قاری محمد عمران اور قاری محمد حسین موسوی نے کلامِ الٰہی کی تلاوت سے دلوں کو منور کیا۔
معروف نعت خواں شاہد مقبول نے بارگاہِ رسالت مآبؐ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا، جبکہ پیر محمد خالد رؤف مایلی نے اتحادِ بین المسلمین، شہدائے اسلام اور کوئٹہ دھماکے کے شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے رقت آمیز دعا کروائی۔
تقریب میں حیدرآباد کی ممتاز سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی، جن میں درج ذیل رہنما شامل ہیں:
ناظم علی آرائیں (نائب صدر مرکزیہ، جمعیت علمائے پاکستان)
صاحبزادہ محمد خالد الرؤف القادری سجادہ نشین آستانہ عالیہ مایلیہ لطیف آباد حیدرآباد
ڈاکٹر یونس دانش
سید عبدالغنی شاہ
محمد رضوان شیخ
علامہ عبدالوہاب قادری
علامہ سجاد الحسینی
علامہ شاہنواز زبیری
علامہ محمد شریف نقشبندی
علامہ محمد اکبر اختر القادری
علامہ محمد عمران
محمد عارف قائم خانی
چاند نبی صدیقی
ملک عبدالشکور نقشبندی









آپ کا تبصرہ